*امت کے دشمنوں سے لڑنے کے لیے مسلمانوں کی افواج کو ایک امام کے تحت اکٹھا ہونا چاہیے*21 ستمبر 2026 کو پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا کہ پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ مقبوضہ فلسطینی علاقے ...
*امت, کے, دشمنوں, سے, لڑنے, کے, لیے, مسلمانوں, کی, افواج, کو, ایک, امام, کے, تحت, اکٹھا, ہونا, چاہیے*21, ستمبر, 2026, کو, پاکستان, کی, وزارتِ, خارجہ, نے, اعلان, کیا, کہ, پاکستان،, مصر،, ترکیہ،, انڈونیشیا،, اردن،, قطر،, سعودی, عرب, اور, متحدہ, عرب, امارات

*امت کے دشمنوں سے لڑنے کے لیے مسلمانوں کی افواج کو ایک امام کے تحت اکٹھا ہونا چاہیے*
21 ستمبر 2026 کو پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا کہ پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ "مقبوضہ فلسطینی علاقے میں 'اسرائیل' کی مسلسل غیر قانونی آباد کاری کی پالیسیوں کی واضح اور دوٹوک الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔"
https://mofa.gov.pk/press-releases/joint-statement-by-foreign-ministers-of-eight-arab-islamic-states
اوّل: مذمت کرنا سیاست دانوں، علماء اور صحافیوں کا کام ہے، مسلح افواج کے کمانڈروں کا نہیں۔ ان آٹھ مسلم ریاستوں کی مشترکہ مسلح افواج میں 25,32,550 فوجی اہلکار شامل ہیں۔ اگر یہ سب ایک قیادت کے ماتحت ہوں تو یہ پوری دنیا کی سب سے بڑی مسلح فوج بن جائے گی۔ تاہم، مسلمانوں کے حکمران غزہ کے لیے فوجی مدد کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، جبکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے حکم دیا ہے: ﴿وَإِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ﴾ "اور اگر وہ دین کے معاملے میں تم سے مدد مانگیں، تو تم پر (ان کی) مدد کرنا لازم ہے" [سورۃ الانفال 8:72]۔
دوم: "اسرائیل" بذاتِ خود، مکمل طور پر، مسلمانوں کی مقبوضہ زمین ہے۔ اسلام دو ریاستی حل (Two-State Solution) کو یکسر مسترد کرتا ہے کیونکہ یہ فلسطین کا زیادہ تر حصہ یہودی وجود کے حوالے کر دینے کے مترادف ہے۔ لیکن یہ حکمران دو ریاستی حل کا مطالبہ کرتے ہیں، حالانکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے حکم دے رکھا ہے: ﴿وَأَخْرِجُوهُم مِّنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ﴾ "اور انہیں وہاں سے نکال باہر کرو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا ہے" [سورۃ البقرہ 2:191]۔
سوم: مسلم دنیا کے حکمران یہودی وجود کے خلاف کبھی جنگ نہیں کریں گے، کیونکہ وہ سیکولر قوم پرست ہیں جو اسلام کے مطابق حکمرانی نہیں کرتے اور کفار کے مفادات کی حفاظت کرتے ہیں۔ امت اور اس کی افواج پر لازم ہے کہ وہ انہیں اقتدار سے ہٹائیں اور خلافتِ راشدہ قائم کریں جو فلسطین کی بابرکت سرزمین کو دریا سے لے کر سمندر تک آزاد کروائے گی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: «إنَّما الإمامُ جُنَّةٌ يُقاتَلُ مِن ورائِه ويُتَّقى به» "امام تو بس ایک ڈھال ہے، جس کے پیچھے رہ کر (مسلمان) لڑتے ہیں اور اسی کے ذریعے تحفظ پاتے ہیں" [مسلم]۔
EN
The Armies of Muslims Must Be Gathered Under One Imam to Fight the Enemies of the Ummah
On 21 September 2026, the Ministry of Foreign Affairs in Pakistan announced that the foreign ministers of Pakistan, Egypt, Türkiye, Indonesia, Jordan, Qatar, Saudi Arabia and the United Arab Emirates “unequivocally condemn “Israel’s” continued illegal settlement policies in the Occupied Palestinian Territory.”
https://mofa.gov.pk/press-releases/joint-statement-by-foreign-ministers-of-eight-arab-islamic-states
Firstly: condemnations are for politicians, ulema, and journalists, not commanders of armed forces. The combined armed forces of these eight Muslim states have 2,532,550 troops. Under one leadership, they would be the largest armed forces in the entire world. However, the rulers of Muslims prevent military support of Gaza, even though Allah ﷻ commanded, ﴿ وَإِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ ﴾ “If they seek your support for the Deen, then you must help.” [TMQ Surat Al-Anfal 8:72].
Secondly: “Israel” itself, in its entirety, is occupied